بنگلورو،28؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی کانگریس یونٹ اورجے ڈی ایس پارٹی کے مابین ہورہی لفظی جھڑپ اب ایک اورموڑپرآگئی ہے۔ریاست میں جب کانگریس اورجے ڈی ایس پرمشتمل مخلوط حکومت برسراقتدارتھی اس وقت مخلوط حکومت کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی ذات پرمبنی سروے رپورٹ منظورنہ کرنے کی ہدایت دی تھی اس پرعمل نہ کرتے ہوئے رپورٹ منظورنہ کرنے کی کمارسوامی نے دھمکی دی تھی۔اس قسم کا گمبھیرالزام سابق وزیربرائے بہبودی پسماندہ طبقات پٹارنگاشیٹی نے عائدکیاہے۔
انہوں نے کمارسوامی پرالزام عائدکرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں لنگایت اوروکلیگاطبقات سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے۔ریاست میں لنگایتوں کی کل آبادی 68لاکھ ہے۔وکلیگا طبقہ کی آبادی ایک کروڑپرمشتمل ہے۔اوپارطبقہ کی 14لاکھ کی آبادی ہے ریاست میں لنگایت طبقہ کی آبادی صرف 68لاکھ ہے۔ وکلیگاطقبہ کی آبادی 48لاکھ ہے۔ریاست میں موجودتمام طبقات میں سے سب سے زیادہ آبادی رکھنے والاطبقہ مسلمانو ں کا ہے۔اس لیے مجھ پردباؤڈالتے ہوئے یہ کہاگیاتھاکہ ذات پرمبنی رپورٹ منظورنہ کی جائے۔
کمارسوامی نے مجھے دھمکاتے ہوئے کہاتھاکہ یہ رپورٹ کسی بھی صورت میں منظورنہ کی جائے۔اس دورمیں مجھے بہبودی پسماندہ طبقات کاقلمدان دیاگیاتھا۔اس وقت میں نے بطوروزیر پسماندہ طبقات کے کمیشنوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ذا ت پرمبنی رپورٹ تسلیم کرنے تیارتھا مگرایچ ڈی کمارسوامی نے مجھ پربرہمی ظاہرکرتے ہوئے کہاتھاکہ ”آپ کو اجلاس طلب کرنے کے لیے کس نے کہاتھا؟“ ذات پرمبنی رپورٹ کسی بھی حالت میں منظورنہ کریں۔
پٹارنگاراجونے مزیدکہاکہ جب وزیراعلیٰ سخت ہدایت دے رہے ہیں توان کی بات کی قدرکرتے ہوئے میں نے اس دن کاطلب کردہ اجلاس منسوخ کردیا۔ ورنہ اس میں اسی رپورٹ کومنظوری دے دیتا۔حال ہی میں سابق وزیراعلیٰ سدارامیانے الزام عائدکرتے ہوئے کہاتھاکہ جب میں وزیراعلیٰ تھا تواس وقت ذات پرمبنی سروے رپورٹ مکمل نہیں ہوپائی تھی،لیکن جب کمارسوامی وزیراعلیٰ بنے توا س وقت یہ سروے رپورٹ مکمل ہوگئی تھی تاہم کمارسوامی نے پٹارنگاشیٹی کوفون کرتے ہوئے اس سروے رپورٹ کومنظورنہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔اس الزام کی تصدیق کرتے ہوئے پٹارنگاشیٹی آج واضح کردیاکہ کمارسوامی نے انہیں سروے رپورٹ منظورنہ کرنے کادباؤڈالاتھا۔